پٹنہ22 اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے ذریعہ الہ آباد کا نام بدل کر پر یاگ راج کئے جانے کو صحیح قرار دیتے ہوئےاسی طرز پر بہار کے کچھ شہروں کا بھی نام بدلے جانے کا مطالبہ ا ٹھایا ۔
گری راج سنگھ نے کہا کہ یوگی نے یہ قدم اچھا اٹھایا ہے، وہ شکریہ کے مستحق ہیں، میں تو مانگ کروں گا کہ بہار میں بھی جو نام مغلوں کے نام سے منسلک ہے، ان ناموں کو بھی بدل دینا چاہئے۔ جس کی ایک مثال بختیار پور ہے۔ بہار کے دارالحکومت پٹنہ کے مضافات میں واقع بختیار پور وزیر اعلی نتیش کمار کی جائے پیدائش ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ دہلی کے سلطان قطب الدین ایبک کی ہدایت پربختیار خلجی کے نام پر اس جگہ کا نام بختیار پور رکھا گیا تھا، جس نے بہار پر حملہ کر دیا تھا۔
گری راج سنگھ نے کہا کہ بھارت میں کوئی بھی مغلیہ نسل سے نہیں ہے ،رام کی اولاد اور بھارتی ہیں۔ بہار میں بی جے پی کے ساتھ اقتدار میں شامل جے ڈی یو کے ترجمان سنجے سنگھ نے کہا کہ یہ ملک ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی سب کا ہے۔ کچھ لوگ بیان بازی کرکے ملک اور معاشرے کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں، ایسے لوگوں سے ملک کے عوام محتاط رہے ۔ انہوں نے گری راج سنگھ کو بڑا بھائی بتاتے ہوئے انہیں بختیار پور کی تاریخ جاننے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اس کے بعد نام تبدیل کرنے کی بات کریں۔ سنجے نے کہا کہ جہاں تک گری راج سنگھ کا سوال ہے، وہ مرکز میں وزیر ہیں، انہیں ملک میں مہنگائی، کسانوں کے مسائل اور بے روزگاری کی بات کرنی چاہئے۔
ادھر آر جے ڈی کے ترجمان نے گری راج کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مغلوں کی سرزمین نہیں بلکہ رام رحیم کی سرزمین ہے اور تمام ا ن ہی کی اولاد ہیں۔ انہوں نے مرکزی وزیر پر آئندہ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر اس طرح کا متنازعہ بیان دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ این ڈی اے سے الگ ہو کر آر جے ڈی کے ساتھ مہا گٹھ بندھن میں شامل ہوئے ہندوستانی عوام مورچہ سیکولر کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلی جتن رام مانجھی نے الزام لگایا کہ گری راج سنگھ ہندو سماج کے جذبات کو بھڑ کاکر 2019 کا لوک سبھا الیکشن جیتنے کی کوشش میں ہیں۔